اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سماجی ویب سائٹوں پر سعودی عرب کی ایک خاتون کی تصویر شائع ہوئی ہے جس نے تیل کی دولت سے مالامال ملک کی ایسی حقیقت نمایاں کردی ہے جو ابھی تک دنیاوالوں کے لئے باور کے قابل نہیں ہےسعودی صارفین نے لکھا ہے کہ یہ تصویر القصیم شہر کی سبزی مارکیٹ کے قریب کے ایک علاقے سے لی گئی ہے۔ تصویر شائع کرنے والوں نے اس تصویر کا ایک ریسٹورنٹ کے کوڑھے دان کی تصویروں سے موازنہ کیا ہے جن میں کھانے پینے کی اشیاء کو ظالمانہ انداز میں پھینک دیا گیا ہے جو اسراف کا اعلی ترین نمونہ ہے جبکہ اس بے چاری خاتون کی تصویر سعودی ظلم و ستم اور عدم مساوات اور ملکی وسائل پر آل سعود خاندان کے مکمل تسلط کی علامت بنی ہوئی ہے۔ صارفین نے مطالبہ کیا ہے کہ ریستورانوں اور شاہی محلات وغیرہ کا اضافی کھانا غریبوں کے درمیان بانٹنے کا انتظام کیا جائے۔ آل سعود خاندان کو تیل اور گیس بیچنے کے عوض کھربوں ڈالر کا منافع مل رہا ہے لیکن سعودی عوام کو اس دولت سے کچھ ملنے کا سوال ہی پیدا نہيں ہوتا بلکہ اس ملک میں بے گھر، بے روزگار اور غریب عوام کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے کیونکہ سعودی خاندان کے شہزادے اپنے بینک بیلنس کے سوا مشرق وسطی اور جنوبی ایشیا میں بدامنی پھیلانے اور دہشت گرد ٹولوں کو امداد فراہم کرنے کےلئے بھی اربوں ڈالر خرچ کررہے ہیں۔
...............
/110


